ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروارساگر مالا پروجیکٹ:احتجاج آٹھویں دن میں داخل۔ اتوار کے دن بھی مچھیروں نے کیا زبردست مظاہرہ۔ مارکیٹ سے مچھلیاں غائب!

کاروارساگر مالا پروجیکٹ:احتجاج آٹھویں دن میں داخل۔ اتوار کے دن بھی مچھیروں نے کیا زبردست مظاہرہ۔ مارکیٹ سے مچھلیاں غائب!

Mon, 20 Jan 2020 11:15:39    S.O. News Service

کاروار 20/جنوری (ایس او نیوز) کاروار میں مرکزی حکومت کے ساگر مالا پروجیکٹ کے تحت بندرگاہ کی توسیع کے خلاف ماہی گیروں نے جو احتجاج شروع کر رکھا ہے وہ اب  پیر کو  آٹھویں دن میں داخل ہوگیا ہے۔ماہی گیروں نے مچھلیوں کاشکار اور اس کی فروخت پوری طرح بند کررکھی ہے۔اور دوسرے مقامات سے شہر میں مچھلیاں لانے اور بیچنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

اتوار کے دن بھی ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو سیکڑوں ماہی گیروں نے احتجاجی دھر نا دیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ کرناٹکا رعیتا پرانتا سنگھا کے اراکین نے بھی احتجاجی دھرنے میں شامل ہوکر ماہی گیروں کی حمایت کی۔سنگھا کی طرف سے بولتے ہوئے پرسنّا کمار نے کہا کہ ماہی گیر پچھلے ایک ہفتے سے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور دھرنا دے رہے ہیں لیکن حکومت نے ا س پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ”بتایا جاتا ہے کہ 30ماہی گیروں کے ایک وفد کوبات چیت کے لئے بنگلورو میں طلب کیا جائے گا۔اس کے بجائے بہتر یہی ہے کہ افسران کاروار آجائیں اور یہاں کے حقیقی مسائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔“

ماہی گیروں کے لیڈر روہیداس باناولی نے مقامی ایم ایل اے کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ”ساگر مالامنصوبے کے موضوع کو سیاسی رنگ دینا اچھی بات نہیں ہے۔کچھ عوامی منتخب نمائندوں کا یہ موقف کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس منصوبے کو رد نہیں کریں گے، قابل مذمت بات ہے۔ ماہی گیر اور مقامی عوام نے شروع سے ہی اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ لیکن حکومت اور اس کے افسران مخالفین کو نظر انداز کررہے تھے۔“

 گزشتہ ایک ہفتے سے کاروار کی مچھلی مارکیٹ ہڑتال کی وجہ سے ویران پڑی ہوئی ہے۔ مچھلیاں نہ ملنے کی وجہ سے لوگ ترکاری، گوشت اور انڈوں پر گزارا کرنے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں۔اتوار کے ہفتہ واری بازار میں بھی مچھلیاں دستیاب نہیں تھیں۔ماہی گیروں نے سوکھی ہوئی مچھلیاں بھی فروخت کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔مچھلی فروش خواتین کی تنظیم کی صدر سوشیلا ہری کنتراکا کہنا ہے کہ جب تک ساگر مالا پروجیکٹ حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ بات چیت نہیں ہوتی اوراس منصوبے کو رد نہیں کیا جاتا تب تک وہ ہڑتال واپس نہیں لیں گے۔معلوم ہوا ہے کاروار کے مختلف علاقوں میں مچھلیاں فروخت کرنے والی خواتین کی تعداد 6ہزار کے قریب ہے۔

 مچھلی نہ ملنے کی وجہ سے بازار میں انڈوں کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔اور کئی دکانوں سے انڈے بھی خالی ہوگئے جبکہ ہول سیل بیچنے والے بھی اپنا اسٹاک بڑھانے لگے ہیں۔کرناٹکا یونیورسٹی میں میرین بایولوجی اسسٹنٹ پروفیسرشیوا کمار ہاراگی نے بتایا کہ کاروار میں 90فیصد لوگ مچھلی خور ہیں۔یہ کاروار شہر کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ اتنے طویل عرصے تک شہر کے لوگ مچھلیوں کے بغیر دن گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔


Share: